{"product_id":"ehd-e-nabvi-pbuh-main-khawateen-kay-alqab","title":"Ehd E Nabvi PBUH Main Khawateen Kay Alqab","description":"\u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eاہلِ اسلام میں اس حقیقت کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے زیادہ لائق تقلید وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے حالت ِایمان کے ساتھ آنحضورe کی خدمت میں حاضری دی۔ قرآنِ کریم کی بہت سی آیات کے نزول کے پس ِمنظر میںان ہی شخصیات کے اسماء گرامی آتے ہیںجو نبی رحمتe پر ایمان لائے ہیں ۔میںعرصہ دس سال سے اس کام میں مصروف ہوں کہ صحابہؓ و صحابیاتؓ ؓ میں سے ان مبارک شخصیات کا تعارف اپنے ہم مذہب مرد وخواتین کے مطالعہ کے لیے لکھوں، جنہیں تاریخِ اسلام میں غیر معمولی خدمات انجام دینے کا شرف حاصل ہوا، یا کسی اہم واقعہ کی وجہ سے ان کو شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔اس لیے میں نے سینکڑوں کتابوں کودیکھا،اخذ شدہ مضامین پرغور کیا تو کتاب و سنت ، سیرت نبوی eاور تراجمِ صحابہؓ پر مشتمل کتابوں کے ان ہزاروں صفحات کا حاصل مطالعہ چار مفید کتابوں کی شکل اختیار کر گیا ۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-1 اصحابِؓ رسولe کے القاب۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-2 عہدِ نبوی ﷺ کی قرآنی خواتین القاب و خطابات۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-3 عہد ِنبوی ﷺکی قرآنی شخصیات۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-4 آغوشِ نبوت (اﷲ کے رسولe بچوں کے درمیان۔)\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eثانی الذکر کتاب آپ کے ہاتھوںمیں ہے، اس میں عہدِ نبویe کی مبارک خواتین کے وہ دلچسپ و ایمان افروز واقعات ہیں جن کے طفیل سات آسمانوں سے کلام الٰہی کا نزول ہوتا تھا،اس کے ساتھ ساتھ ان کے ان القاب و خطابات کاذکر خیر ہے جن کے پس منظر میںصحابیات ؓ کے وہ کارنامے یا خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے وہ دیگر صحابیاتؓؓ اور پورے عالم کی خواتین میں ممتاز ہیں ، کتاب کے اس منفرد موضوع کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مصنف کو احادیث ،تفاسیر، تراجم و سیر کی مستند کتابوں کا وسیع مطالعہ کرنے کی سعادت ملی۔ اس علمی مجموعہ سے استفادے کے لیے مناسب ہو گا کہ ان معلومات کو ذہن میں رکھا جائے:\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-1 کسی صحابیہؓ کے واقعہ کو قرآنی آیت یا لقب و خطاب سے منسوب کرنے سے پہلے ان کے نام اور نسب کی مختصر وضاحت کردی گئی ہے ،اس کے ساتھ نبی محترمe سے ان کے ایمانی تعلق یا رشتہ داری کا ذکر بھی لازمی کیا ہے۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-2 صحابیاتؓ ؓ کے القاب اور قرآنِ کریم میں ان کے تذکرے پر مشتمل یہ پہلی کتاب ہے، جس میں دوسو سے زائد صحابیاتؓؓ کے تین سو کے قریب القاب اور دو سو کے قریب آیات اور ایک سو حدیثوںکا گلدستہ امت مسلمہ کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-3 صحابیاتؓؓ کے بعض خطابات کا تعلق اگر چہ زمانہ جاہلیت سے ہے،انہیںشامل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سید دو عالمe نے انہیں برقرار رکھا، اور وہ حدیث کی قسم ’’ تقریر ‘‘ میں شمار کیے جاتے ہیں اس لیے ان کا تذکرہ بھی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-4 صحابیاتؓؓ کے ناموں، ذکر القاب اور خصوصیات کے بعد اور کہیں درمیان میں قرآنی آیات کا تذکرہ کیا ہے تاکہ اس خاتونِ اسلام کا تعارف ،اس کے وہ اعمال ، اخلاق اور کمالات سامنے آ جائیں ،جن کی وجہ سے وہ اس لائق ہوئیں کہ کتاب اﷲ میں ان کا ذکر خیرکیا جائے۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-5 بعض صحابیاتؓ ؓ وہ ہیں جن کو قرآنی شانِ نزول کا مصداق ہونے کی وجہ سے قرآنی لقب بھی ملا، اس قرآنی لقب کی وجہ سے ان کو ایک امتیاز حاصل ہے ۔ بعض آیات کے شانِ نزول میں مفسرین نے مختلف نام لکھے ہیں ، ہم نے ان سب خواتین کو آیت کے دیے ہوئے آسمانی لقب مثلاً :اَلْمُؤْمِنَاتُ ، اَلصَّادقَات وغیرہ قرآنی القاب میں ان سب صحابیاتؓ کو شامل کیا ہے ‘‘ جن کے اسماء گرامی کو کسی بھی مفسر نے شانِ نزول میں لکھا ہے۔ حضرت سودہ rکے تذکرہ میں حضرت عائشہ rفرماتی ہیں کہ شانِ نزول میں ناموں کے اختلاف کی وجہ سے احکام کی عمومیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا، (سورۃ النسآء ۱۲۸،تفسیر نیشا پوری)بالفرض مفسرین نے کسی ایک نام کی ترجیح کے دلائل قائم کیے ہیں توہم نے ان کا تذکرہ اس لیے ضروری نہیں سمجھا کہ اس کتاب کا موضوع مسائل نہیں مناقب ہیں۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-6 اس کتاب میں فضائل کے ساتھ عملی کارناموں اور ملی خدمات، سیاسی ، علمی اور اخلاقی کاموںپر ملنے والے القاب و خطابات کو جگہ دی گئی ہے جن کے مطالعہ کے بعد مسلمان خواتین میں قومی خدمات اور بقائے اسلام کے لیے زندہ رہنے اور عملی برتری میں کوشاں رہنے کا ذوق پیدا ہو گا۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-7 ابن الاثیررحمۃ اﷲ علیہ نے 635ھ میں اسد الغابہ لکھی جس میں 1024صحابیاتؓ کا ذکر کیا ہے ۔ ابن حجرؓ نے 852ھ میں ’’ الاصابہ ‘‘ کے اندر 322کے نام لکھے اور پھر خصوصاً ایک جلد صحابیاتؓؓ کے لیے لکھی اس میں ۱۵۴۵ صحابیاتؓؓ کا ذکر ہے یہ سب سے بڑی تعداد ہے، جہاں تک ان کا علم پہنچا ہے ۔ اس لیے کہ ان سے پہلے ابن عبدالبر نے (استیعاب میں ۳۹۸ کا اورابن سعد نے۶۲۷ کا ذکر کیا ہے اس لیے ہم نے دیکھا تو سب کتابوں کو ہے تاہم اس کتاب میں مذکور بعض نام الاصابہ کے علاوہ کسی اور میں نہیں ملیں گے۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e-8 فہارس کی ترتیب یہ ہے۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e٭ پہلی فہرست کتاب کے عنوانات ، صحابیات ؓ کے اسماء گرامی اور ان کے ایسے لقبوں کی ہے جو ایک صحابیہ کو دیگر صحابیاتؓؓ سے منفرد کرتے ہیں۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e٭ دوسری فہرست حروف تہجی کی ترتیب سے ہے اس میں وہ نام بھی ہیں جو جلی عنوانات میں تو نظر نہیںآئیں گے تاہم تبعاً کسی صحابیہؓ کے ذکر القاب میں ان کا نام ہے ۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e٭ تیسری آیات کی اور چوتھی ماخذ کی فہرست ہے۔ قرآنِ کریم ، احادیثِ نبوی ﷺ ، کتب سیر و تاریخِ اسلام اور کتب اسماء الرجال سے ماخوذ اس مجموعہ تحریرات کو سترہ ابواب پر تقسیم کر دیا گیا ہے جن کا تعارف یہ ہے:\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب1: تَعْریفِ القَاب: قرآنی نظریہ، سنت ِرسولe اور تاریخِ اسلامی۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب2: اَزْوَاجُ النَّبِیّﷺ : نبی اکرم ﷺ کی ازواج ؓ ( امت کی مائوں ) کا ایمان افزاء ذکر۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب3: بَنَاتُ النَّبِیﷺحضور eکی بیٹیوںکے ایمان افروزحالات و واقعات اور ان کا قرآنی مقام و مرتبہ۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب4: رَبیبَاتُ النَّبِیّﷺ :حضور eکے زیر تربیت رہنے والی خواتین کا قرآنی و آسمانی مقام ومرتبہ ۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب5: اَقَارِبُ النَّبِیe : رسول رحمتe کی رشتہ دارخواتین کے ذکر قرآنی اور القاب و خطابات ایمانی کا دلنشیں تذکرہ۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب6: اَلْمُؤْمِنَاتُ:ان اہل ایمان صحابیاتؓ ؓ کی باتیں جن کے یقین کامل کا گواہ اﷲ کا قرآن بن گیا۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب7: اَلْمُبَایِعَات:( بیعت کرنے والیاں ) یعنی وہ خواتین جنہوں نے اپنی جان، مال اور مرضیات الغرض ہر محبوب شے کو دین اسلام پر قربان کر دینے کا عہد کیا۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب8: اَلْمُھَاجِرَاتْ :( ہجرت کرنے والیاں ) اور ان کے ساتھ ذَاتُ الْھِجْرَتَیْن یعنی دو ہجرتیں کرنے والی صحابیاتؓ کے اسماء گرامی اوراَلمُمتَحنات یعنی ان عورتوں کا ذکر خیر جن کے امتحان کا حکم سات آسمانوں سے آیا، وہ کامیاب ہوئیں اور قرآنِ کریم کی ایک سورۃ کو ان سے منسوب کردیا گیا۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب9: اَلْغَازِیَاتْ : غزوات نبیe میں شریک ہونے والی جاںنثار عورتیں، جنہوں نے تاقیامت آنے والی نسلوں کے لیے عزم و ہمت کی ایک تاریخ رقم کی ۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب10: مُصَلِّیَاتُ الْقِبْلَتَیْنُ : قبلہ اوّل اور کعبہ المکرمہ دونوں کی طرف نماز پڑھنے کا شرف پانے والی صحابیاتؓؓ جنہیں قرآنِ کریم نے السَّابقات قرار دیا ہے۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب11: اَلْمُعَذَّبَاتُ فِی اﷲِ: اﷲ کی محبت میں جن کو تکالیف دی گئیں اور ان کی استقامت آج بھی مشعلِ راہ ہے۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب12: اَلْمُتَصَدِّقَاتْ: خیرات کرنے والیاں ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے صدقہ کے لیے صنعت و حرفت سے کام لیا۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب13: خَادِمَاتُ اَھْلِ الْبَیْت: آپe کی اور خاندانِ نبوت کی خدمت گزار خوش قسمت عورتیں۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب14: اَلشَّاعِرَات : عہد نبوی ﷺ میں اسلام کی سربلندی کے لیے زبان سے جہاد کرنے والی فصیح و بلیغ صحابیاتؓؓ کے اسماء والقاب ۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب15: اَلْمُبَشَّرَاتْ :( جنہیں جنت اور دعائے نبوی ﷺ کی بشارت مل گئی)ان بختاور خواتین کے القاب۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب16: اَلطَّبِیْبَاتُ: مرہم پٹی اور ابتدائی ضروری طبی خدمات انجام دینے والی وہ مسلمان خواتین جن کو اس فن کی وجہ سے غزوات کی حاضری کی عزت ملی۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eباب17: اَلْمُتَفَرِّقَاتْ : گذشتہ ابواب کے مخصوص عنوانات کے تحت جن صحابیاتؓؓ کے اسماء و القاب نہیںآ سکے ان کو اس باب میںجگہ دی گئی ہے۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eدعا ہے کہ رب رحمن و رحیم اس خامہ فرسائی کواپنی بارگاہ میں درجہ قبول عطا فرمائے۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eمعاونین ادارہ، ان کے والدین و اساتذہ کو جزا دے۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eخادم صحابہؓ، صحابیاتؓ واہل بیت کرام ؓ۔\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003eیکم ذی قعدہ ۱۴۳۵ھ محمد اسلم زاہد ؔ\u003c\/p\u003e \u003cp style=\"direction: rtl\"\u003e۲۷؍اگست ۲۰۱۴ء مدرس بیت العلوم ۔ کھاڑک ، لاہور\u003c\/p\u003e","brand":"Bin Imtiaz","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":54488613257582,"sku":"SKU-ehd-e-nabvi-pbuh-main-khawateen-kay-alqab","price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/1014\/4517\/3614\/files\/Ehd-E-Nabvi-Ki-Qurani-Khawateen.jpg?v=1786131389","url":"https:\/\/binimtiaz.com\/products\/ehd-e-nabvi-pbuh-main-khawateen-kay-alqab","provider":"Bin Imtiaz Store","version":"1.0","type":"link"}